15 جولائی 2012 - 19:30

دمشق ميں مغرب کے حمايت يافتہ مسلح گروہ اور حکومتي افواج کے درميان جھڑپ کي خبر ہے.

ابنا: يہ ايسي حالت ميں ہے کہ دہشتگردوں کا ايک گروہ سرکاري افواج سے شکست کے بعد بھاگ کر ترکي کي حدود ميں پہنچ گيا ہےدوسري جانب  شام کا دورہ کرنے والے غير ملکي صحافيوں نے بتايا ہے کہ مغرب کے حمايت يافتہ مسلح گروہوں نے شام کے مختلف شہروں ميں اس طرح  بدامني پھيلارکھي ہے کہ  لوگ ان سے بچنے کے لئے دمشق کا رخ کررہے ہيں -   دمشق سے موصولہ خبروں کے مطابق سيرين لبريشن آرمي اور شامي فوج کے درميان زبردست لڑائي ہوئي ہے- عيني شاہدين کا کہنا ہے کہ سيرين لبرين آرمي نے دارالحکومت دمشق ميں حساس ادارے کي عمارت پر حملہ کيا ہے جبکہ دمشق کا ہوائي اڈہ بھي بند کرديا گيا ہے- لڑائي والے علاقے ميں شديد دھماکوں اور گولياں چلنے کي آوازيں دير تک سنائي دي ہيں -  يہ ايسي حالت ميں ہے کہ شام کے شورش زدہ علاقوں کے لوگ مسلح دہشتگردوں کے حملوں سے بچنے کے لئے دارالحکومت دمشق کي جانب کوچ کر رہے ہيں تاکہ براہ راست حکومت کي حفاظت ميں آسکيں-سرکردہ روسي صحافي و ياچسلاو کراسکوف نے جو حال ہي ميں شام کا دورہ کرکے واپس آئے ہيں ماسکو ميں پريس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ شام کے چھوٹے شہروں اور ديہات ميں جہاں مسلح گروہوں کا عمل دخل ہے زبردست بدامني پائي جاتي ہے-انہوں نے بتايا کہ حکومت کي عملداردي والے شہروں کي صورتحال مکمل طور سے پرامن ہے اور زندگي معمول کے مطابق چل رہي ہے-روسي صحافي نے مزيد کہا کہ انہوں نے دمشق کے قيام کے دوران حمص شہر سے فرار ہونے والے بہت سے  لوگوں سے ملاقات کي تھي –انہوں نے کہا کہ ان  ميں زيادہ تر عورتيں، بچے اور سن رسيدہ افراد شامل تھے جو مسلح افراد کے حملوں کے خوف سے اپنا گھر بار چھوڑ کے حکومت کي پناہ ميں آئے تھے-      ادھر پريس ٹي وي نے خبر دي ہے کہ مسلح گروہوں نے حمص شہر کو ميدان جنگ ميں تبديل کرديا ہے اور شہر کي عمارتوں پر نشانہ بازوں کو کھڑے ديکھا گيا ہے-حقائق کا جائزہ لينے کي غرض سے شہر کا دورہ کرنے والے صحافيوں کے ايک گروپ نے بتايا ہے کہ شہر ميدان جنگ کا منظر پيش کر رہا ہے اور جگہ جگہ حکومت مخالفين نے مورچے بنا رکھے ہيں-صحافيوں کے مطابق شہر ميں زيادہ تر دکانيں لوٹي جاچکي ہيں اور جگہ جگہ  رکاوٹيں کھڑي کرکے سڑکوں کو بند کرديا گيا ہے-صحافيوں کي اس ٹيم نے حمص کے محلہ الشياح کا بھي دورہ کيا ہے جہاں مسلح افراد اور شامي فوج کے درميان زبردست لڑائي ہوئي ہے –شام سے ملنے والي ايک اور خبر کے مطابق مسلح افراد کا ايک گروپ شامي فوج کے ساتھ لڑائي ميں پسپائي  کے بعد ترکي کي جانب فرار ہوگيا ہے- دوغان نامي خبر رساں ايجنسي نے اپني ايک رپورٹ ميں بتايا ہے کہ  پچاس دہشتگردوں کا ايک گروپ اتوار کي رات، کار بلوس نامي علاقے ميں شامي فوج کے ساتھ جھڑپ کے بعد سرحد عبور کرکے ترکي کے صوبے قاضي آنتب ميں داخل ہوگيا ہے –اس لڑائي ميں کئي دہشتگردوں کے مارے جانے کي خبر ہے جس ميں کہا جارہا کہ ايک ترک شہري بھي شامل ہے –شامي حکام بارہا ترکي پر دہشتگردوں کي حمايت اور انہيں اسلحہ فراہم کرنے کا الزام لگا چکے ہيں-ترکي کي حکومت اور خود وزيراعظم رجب طيب اردوغان کئي بار اپني تقريروں ميں شامي حکومت کے مخالفين کي کھل کر حمايت کرچکے  ہيں-

شام ميں مارچ دوہزار گيارہ سے بدامني کا سلسلہ جاري ہے اور قطر، سعودي عرب، ترکي سميت بعض بيروني طاقتوں کے حمايت يافتہ مسلح گروپ عام شہريوں کے قتل عام اور سيکورٹي فورس پر حملے کرکے شام ميں غير ملکي فوجي مداخلت کا راستہ ہموار کر نے کي کوشش کر رہے ہيں- ........

/169